
پاکستان یوتھ وائس اینڈ رائٹرز فورم (پیووف) کے بانی و صدر محترم عدنان الیاس کا تعلق سندھ کے ضلع ٹنڈوالہیار کے ایک پُرسکون اور سادہ گاؤں سے ہے ، اس مٹی نے ان کے مزاج میں خلوص اور احساس پیدا کیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے سے حاصل کرنے کے بعد انہوں نے جامعہ سندھ سے اردو ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور علم و ادب کے سفر کو اپنی عملی زندگی کا مستقل عنوان بنا لیا۔ تعلیم و تدریس کے شعبے سے ان کی وابستگی فکری اور اخلاقی ذمہ داری رہی ہے۔ کراچی اور اسلام آباد کے مختلف ممتاز تعلیمی اداروں میں بطور لیکچرر خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے بے شمار طلبہ کی علمی اور تخلیقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ بہ طور کالم نگار ، عدنان الیاس نے قومی اخبارات میں اردو ادب ، سماجی شعور ، قومی مسائل اور عصری تقاضوں پر مدلل اور مؤثر تحریروں کے ذریعے اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کے مضامین معاشرے کے شعور کو بیدار کرنے اور مثبت تبدیلی کی راہیں ہموار کرنے کی ایک سنجیدہ کاوش ہیں۔ تعلیم و ادب کے ساتھ ساتھ وہ جدید ڈیجیٹل میڈیا کے میدان میں بھی نمایاں مہارت رکھتے ہیں۔ ویڈیو ایڈیٹنگ ، وائس اوور ، تخلیقی ابلاغ اور ڈیجیٹل پروڈکشن کے شعبوں میں ان کا عملی تجربہ انہیں متعدد قومی اور بین الاقوامی منصوبوں کا مؤثر حصہ بنا چکا ہے ، جہاں انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کا بھرپور اظہار کیا۔ سنہ 2022 میں انہوں نے پاکستان یوتھ وائس اینڈ رائٹرز فورم (PYVWF) جیسے بہترین ادارے کی بنیاد رکھی ، جو نوجوان قلم کاروں ، گرافک ڈیزائنرز ، ویڈیو ایڈیٹرز اور دیگر تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے ایک فعال اور تربیتی پلیٹ فارم کے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکا ہے۔ یہ فورم نوجوان نسل کی ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں مثبت قومی کردار ادا کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ ادبی تعلیمی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں متعدد مختلف ادبی اور سماجی اداروں کی جانب سے انہیں اعزازات ، شیلڈز۔، اسنادِ تحسین اور تعریفی اسناد سے نوازا جا چکا ہے ، جو ان کی تخلیقی کاوشوں اور معاشرے کی مثبت تعمیر کے لیے مسلسل جدوجہد کا روشن اعتراف ہیں۔ آج محترم عدنان الیاس کی شناخت ایک صاحبِ فکر معلم ، صاحبِ قلم کالم نگار، متحرک سماجی کارکن ، باصلاحیت میڈیا پروفیشنل اور نوجوانوں کے مخلص رہنما کے طور پر کی جاتی ہے۔ ان کا یقین ہے کہ قلم کو جب اخلاص کے ساتھ اٹھایا جائے ، فکر مثبت ہو اور کردار دیانت سے مزین ہو تو الفاظ معاشروں کی تقدیر بدلنے والی قوت بن جاتے ہیں۔ یہی یقین ان کے سفر کا سرمایہ افتخار ہے اور یہی ان کی شخصیت کا روشن ترین حوالہ۔